کیا وزیراعظم استعفیٰ دیں گے؟ انتہائی اہم تفصیلات سامنے آگئی

کیا وزیراعظم استعفیٰ دیں گے؟ انتہائی اہم  تفصیلات سامنے آگئی

اسلام آباد (تہلکہ ٹی وی خصوصی رپورٹ) کیا وزیراعظم نوازشریف استعفیٰ دیں گے؟ شہبازشریف کیا چاہتے ہیں؟ دو نومبر کی ملکی سیاست میں کیا اہمیت ہے؟ عمران خان کے شو کی کامیابی سے کیا وزیراعظم کا جانا ٹھہر جائے گا؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں۔

سینئر صحافی اسد کھرل نے تہلکہ ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ جنرل راحیل شریف کی رخصتی کا آخری مہینہ اہم اہم لوگوں کی رخصتی کا سبب بن رہا ہے۔ پرویز رشید کے استعفیٰ دینے سے ابھی معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے، ڈان لیک کے تانے بانے وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کی طرف جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وزیراعظم انتہائی پریشان ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے وزیراطلاعات پرویز رشید سے وزارت کا قلمدان لینے سے ابھی معاملات حل نہیں ہوئے ہیں۔ آرمی چیف کیساتھ گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد صحیح روح کے مطابق نہیں ہوسکا ہے، اس ضمن میں شہباز شریف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اس وقت تصادم کی طرف جانے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف استعفیٰ دے دیں، جس کے بعد حالات کنٹرول میں آجائیں گے۔ لیکن وزیراعظم نوازشریف کسی صورت استعفیٰ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔

حکومتی حلقے میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ اگر 2 نومبر کو عمران خان کا شو ناکام ہوا تو صرف پرویز رشید کی قربانی سے خطرہ ٹل جائے گا۔ حکومتی حلقے پرامید ہیں کہ تحریک انصاف کا شو ناکام ہوجائے گا، جس کیلئے حکومت نے پانچ قسم کی حکمت عملی بنائی ہے۔  تاہم تحریک انصاف کا دھرنا کامیاب ہونے کی صورت میں ان ہاؤس تبدیلی کے واضح امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ جس کے بعد چوہدری نثار علی خان کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔

اس ساری صورتحال کے پیش نظر پیپلزپارٹی ایک بار پھر متحرک ہوگئی ہے، پیپلزپارٹی کی تمام قیادت نے چوہدری نثار کیخلاف بیانات دینا شروع کردیئے ہیں، کیونکہ چوہدری نثار پیپلزپارٹی کیلئے ناپسندیدہ شخص کا درجہ رکھتے ہیں، وہ کسی صورت ان کو وزیراعظم بنتا دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر کے شروع میں پانامہ لیکس انکوائری اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے اہم ادارہ بھی متحرک ہوگا ۔ جس کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کا خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اہم پیش رفت کا امکان بھی ہے۔ آرمی چیف کے قریبی ذرائع اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ کیا گیا اپنا وعدہ نبھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا مستقبل خطرے میں ہے ۔ اس پر اگلے 30 دنوں میں اہم فیصلے ہوں گے۔