بارہ اکتوبر سے اٹھارہ اکتوبر تک

بارہ اکتوبر سے اٹھارہ اکتوبر تک

تحریر : اظہر ایاز

عائشہ صدیقہ ‘آزادی صحافت’ کے نام پر ایک مصنفہ اور ریسرچر ہیں۔ 12 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک عائشہ صدیقہ نے کابل کا ‘اہم ترین’ دورہ کیا۔ عائشہ صدیقہ پی-آئی-اے کی پرواز PK-249 سے کابل کے لیے بغیر کسی سفری دستاویزات اور افغان ویزے کے پی-آئی-اے اور مول  کے اعلی عہدیداران کی مدد سے روانہ ہوئیں۔ مول پاکستان کی آئل اینڈ گیس کارپوریشن ہے۔

سرتاج عزیز کے داماد اور سابق سفیر عارف ایوب نے عائشہ صدیقہ کو بھیجنے میں ‘اہم کردار’ ادا کیا۔ عارف ایوب کی اہلیہ اور سرتاج عزیز کی صاحبزادی تہمینہ عارف بھی عائشہ صدیقہ کے ہمراہ گئیں۔

عائشہ صدیقہ بظاہر افغانستان کے شہر “ھرات” میں ھرات سیکیورٹی کی کانفرنس میں شمولیت کے لیے گئیں تھیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کانفرنس میں ایک لفظ بھی نہ بول پائیں۔ اس کانفرنس میں شمولیت کو ‘کور سٹوری’ کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ پس پردہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے نمائندوں سے ملا جاسکے۔ 15 اکتوبر کو ھرات کانفرنس کے بعد رات 9 بج کر 20 منٹ پر ھرات میں مقیم بھارتی کونسلیٹ کا سیکیورٹی افیسر ‘کلویر سنگھ’ عائشہ صدیقہ کو خاموشی سے اپنے ساتھ لے گیا۔ کلویر سنگھ سابق بھارتی فوجی اور حاضر سروس را کا ایجنٹ ہے۔ کلویر سنگھ جس گاڑی میں عائشہ صدیقہ کو لے کر گیا وہ بغیر نمبر پلیٹس کی سفید رنگ کی لینڈ کروزر تھی۔

عائشہ صدیقہ نے ھرات کے بھارتی کونسلیٹ میں بھارتی ایجنسی کے نمائندوں سے تین گھنٹے میٹنگ کی جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی کا اعلی افسر ‘سودیپ کمار’ بھی شامل تھا۔ 16 اکتوبر کو افغانستان کے دارلحکومت کابل میں موجود سرینہ ہوٹل میں عائشہ صدیقہ نے بھارت کے ڈیفنس ایڈوائزر بریگیڈیئر وائے-پی-خاندوری سے 30 منٹ تک میٹنگ کی۔ 17 اکتوبر کو عارف ایوب کی اہلیہ اور سرتاج عزیز کی صاحبزادی کے ہمراہ عائشہ صدیقہ افغان خفیسہ ایجنسی این-ڈی-ایس کی گاڑی میں ہوٹل سرینہ سے کابل کے علاقے ‘ملالی وات’ میں موجود بھارتی ایمبسی کی یاترا کرنے گئیں جہاں را کے حکام سے تین گھنٹے تک میٹنگ کی۔ 18 اکتوبر کو عائشہ صدیقہ صاحبہ واپس پاکستان تشریف لے آئیں۔