جاپانی سائنس دانوں نے ’’پگھلنے سے محفوظ‘‘ انوکھی آئسکریم تیار کرلی

جاپانی سائنس دانوں نے ’’پگھلنے سے محفوظ‘‘ انوکھی آئسکریم تیار کرلی

ٹوکیو: آئسکریم کھانے کے شوقین افراد کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ کس طرح آئسکریم کو بغیر پگھلے گھر تک لایا جائے اور پگھلنے سے قبل اسے کھالیا جائے۔
اب جاپانی سائنسدانوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالا ہے جس کے بعد آپ اپنی پسندیدہ آئسکریم کو پگھلنے کے ڈر سے جلدی جلدی کھانے کے بجائے آرام سے اس کا مزہ لے سکیں گے۔ جاپان کی کانازاوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسی آئسکریم تیار کرلی ہے جو کمرے کے درجہ حرارت پر 3 گھنٹے تک اپنی اصل شکل برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آئسکریم کے پگھلنے کا وقت بڑھادیا ہے تاہم انہوں نے ایسا کیسے کیا؟ اس سوال کے جواب میں سائنسدانوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے آئسکریم کی تیاری میں اسٹرابیری سے حاصل شدہ مائع ’’پولی فینول‘‘ استعمال کیا جس نے آئسکریم کے پگھلنے کے وقت میں اضافہ کردیا۔
کانازاوا یونیورسٹی کے پروفیسر ٹومیہیسا اوٹا نے بتایا کہ پولی فینول میں یہ خصوصیات ہوتی ہیں کہ وہ پانی اور چکنائی کو علیحدہ ہونے سے روک دیتا ہے اور یوں آئسکریم کافی دیر تک اپنی اصل حالت میں برقرار رہتی ہے۔
سائنسدانوں نے اس آئسکریم پر 5 منٹ تک ہیر ڈرائیر سے گرم ہوا پھینکی تاہم آئسکریم نہیں پگھلی۔ انہوں نے بتایا کہ جس آئسکریم میں پولی فینول استعمال کیا جاتا ہے وہ دوسری آئسکریموں کی نسبت زیادہ دیر تک جمی رہتی ہے۔ جاپان میں یہ آئسکریم چاکلیٹ، ونیلا اور اسٹرابیری کے ذائقوں میں دستیاب ہے۔