ورلڈ الیون کی راہ میں بچھے کانٹے بڑھنے لگے

ورلڈ الیون کی راہ میں بچھے کانٹے بڑھنے لگے

ویلنگٹن: ورلڈالیون کی راہ میں بچھے کانٹے بڑھنے لگے، نیوزی لینڈ نے اپنے کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے روک دیا جبکہ سابق پلیئرز کو بھی دیکھ بھال کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
آئی سی سی ورلڈ الیون کا آئندہ ماہ دورئہ پاکستان متوقع ہے، تشکیل کی ذمہ داری انگلینڈ کے سابق کوچ اینڈی فلاور کو سونپی گئی ہے، اس ٹور میں شیڈول 3 ٹوئنٹی 20 میچز اور اس سے قبل دبئی میں مختصر ٹریننگ کیمپ کے لیے پلیئرز کو فی کس ایک لاکھ ڈالر دیے جائیں گے جو بہت بڑی رقم ہے،اس کے باوجود ورلڈ الیون کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
اب نیوزی لینڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے سے منع کردیا، اگرچہ ابھی تک کیوی بورڈ کی جانب سے ستمبر میں کسی بھی انٹرنیشنل پروگرام کی تصدیق نہیں کی گئی مگر پھر بھی این زیڈ سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ نے واضح کیاکہ بورڈ کے ساتھ زیرمعاہدہ 21 کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی اینڈی فلاور کی جانب سے تیار کردہ ٹیم میں شامل نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ ورلڈ الیون کے مجوزہ کھلاڑیوں میں نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل اور لیوک رونکی شامل ہیں۔ مارٹن کا بورڈ کے ساتھ معاہدہ ہے تاہم لیوک رونکی حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ اب مارٹن تو پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے تاہم رونکی یا پھر سابق کپتان برینڈن میک کولم جیسے کھلاڑیوں کی راہ میں این زیڈ سی حائل نہیں ہوگی۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہاکہ کنٹریکٹ یافتہ پلیئرز دیگر انٹرنیشنل مصروفیات کی وجہ سے پاکستان جانے کیلیے دستیاب نہیں ہوں گے، جہاں تک معاملہ غیرکنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کا ہے تو اس کیلیے آئی سی سی کی سیکیورٹی ایڈوائس درکار ہوں گی، فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) بھی اس سلسلے میں غیرجانبدار سیکیورٹی جائزہ حاصل کررہی ہے، اس لیے غیرکنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو ان کے مشوروں پر عمل کرنا ہے، انھیں خود ہی پاکستان جانے کے حوالے سے خطرے کا ادراک کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ بورڈ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بھی ورلڈ الیون کا حصہ بننے کی خاطر سابق کھلاڑیوں کو این او سی کی ضرورت ہوگی، ڈیوڈ وائٹ نے کہاکہ اگر کسی غیرکنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی نے فلاور کی آفر قبول کرلی تو اسے این او سی جاری کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ کرس کینز کی زیرقیادت2003 میں کیا تھا۔آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کی اے ٹیم کو جنوبی ایشیا جانا ہے جس کے بعد اکتوبر میں کیویز3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹوئنٹی 20 میچز کیلیے بھارت کا رخ کریں گے مگر ابھی تاریخوں کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ڈیوڈ وائٹ سے پوچھا گیا کہ بورڈ کے سخت موقف کا مقصد کھلاڑیوں کو ایک لاکھ ڈالر کی پُرکشش آفر کو قبول کرنے سے باز رکھنا تو نہیں، اس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی اعلان نہیں کرسکتے مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس موقع پر ہماری انٹرنیشنل کمٹمنٹ ہوگی،اس میں کھلاڑیوں کو حصہ لینا پڑسکتا ہے۔
ادھر جون میں انٹرنیشنل ریٹائرمنٹ لینے والے رونکی اس وقت انگلینڈ میں ٹوئنٹی 20 بلاسٹ ایونٹ کھیلنے میں مصروف ہیں، ان کو بھی پاکستان کی سیکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ کا انتظار ہے۔
نیوزی لینڈ پلیئرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیتھ ملز نے کہاکہ فیکا کیلیے ریگ ڈکسن پاکستان کی سیکیورٹی کا جائزہ لیں گے، جب رپورٹ موصول ہوئی تو ہم پلیئرز کو بھیج دیں گے۔