ہم جب چاہیں قتل کروادیں، کامیسٹس کا پروفیسر بدمعاش بن گیا، یاسر صدیقی کو دھمکی دے ڈالی

ہم جب چاہیں قتل کروادیں، کامیسٹس کا پروفیسر بدمعاش بن گیا، یاسر صدیقی کو دھمکی دے ڈالی

لاہور (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) کامیسٹس کے طلبہ کی حقوق کی جدوجہد کرنیوالے یاسر صدیقی کو قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ الیکٹریکل انجنیئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد انصاری کا کھلے عام کہنا ہے کہ ‘ہم جب چاہیں کسی ڈی ڈی پی سٹوڈنٹ سے اس کا قتل کروا سکتے ہیں، بس اشارہ کرنے کی دیر ہے’۔ تہلکہ ٹی وی نے ایک اور پروفیسر اور یاسر صدیقی کے درمیان ریکارڈنگ حاصل کرلی جس میں واضح طور پر ان کے الفاظ کو دہرایا گیا ہے۔ 

تہلکہ ٹی وی نے جب یاسرصدیقی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف ڈی ڈی پی طلبہ کو ان کا جائز حق دلانے کی جدوجہد کر رہا ہوں۔ میری جدوجہد آغاز سے لے کر آج تک مکمل طور پر پرامن ہے۔ میں نے کبھی طلبہ کو ہنگامہ آرائی اور فساد مچانے کی طرف بڑھنے کی ترغیب نہیں دی۔ میری رہنمائی میں وہ گزشتہ دو سال سے عدالت عالیہ سے انصاف کے طلبگار ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے : دوہری ڈگری سینیٹ قائمہ کمیٹی اپنےاحکامات پرعمل نہ کرا سکی کامسیٹس کے2500طلبا کا مستقبل دائو پر

یہ بھی پڑھیئے :  مجھ پر الزامات انتقامی کاروائی کے سوا کچھ نہیں، یاسر صدیقی

profile

 

 

پروفیسر یاسر صدیقی کامیسٹس میں پروفیسر رہ چکے ہیں۔ کامیسٹس کا خبروں کی زینت بننے والا ڈبل ڈگری پروگرام، جس میں یونیورسٹی نے طلبہ سے دوگنا فیس وصول کی اور کامیسٹس کیساتھ لنکاسٹر یونیورسٹی یوکے کی ڈگری دینے کا اعلان کیا۔ مگر اس پروگرام کیلئے یونیورسٹی نے ایچ ای سی سے بھی منظور ی لی ، نہ ہی انجینئرنگ کونسل سے کوئی اجازت لی۔ 2014 میں جب پہلا بیج پاس آؤٹ ہوا تو سب کچھ منظر عام پر آگیا۔ اس وقت یاسرصدیقی فیکلٹی کے ممبر تھے، انہوں نے طلبہ کے حق میں اس بڑے فراڈ کیخلاف آواز اٹھانی شروع کی، جس کی وہ ابھی تک جدوجہد کررہے ہیں۔