پنجاب اور خیبر پی کے کی سرحدیں تقسیم، تصادم کا خطرہ

پنجاب اور خیبر پی کے کی سرحدیں تقسیم، تصادم کا خطرہ

صوابی (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) صوبہ خیبر کے پی اور پنجاب کی سرحدیں اس وقت وہ منظر پیش کررہی ہیں جو قابل بیان نہیں ہے، صوبے تقسیم کرکے حکومت کیا پیغام دے رہی ہے؟ صوبائی بارڈر اس وقت دو ممالک کے درمیان بارڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔

صوابی میں وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختون خوا کارکنان کے ہمراہ پہنچ گئے جہاں تحریک انصاف کا بیس کیمپ لگا لیا گیا ہے۔ صوابی میں کارکنان کی بڑی تعداد پہنچ چکی ہے۔ یہاں پر ہارون آباد پُل سے کنٹینرز ہٹانے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا، دوسری جانب فرنٹیر کانسٹیبلری اور پنجاب پولیس چوکس کھڑی ہے ، جن کے پاس آنسو گیس کا ذخیرہ موجود ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے 5 کرینیں پہنچا دی گئیں، جن کے ساتھ ٹریکٹر بھی لائے گئے ہیں۔

صوابی میں کارکنان سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشتو میں خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان احتساب کیلئے لڑرہے ہیں ہم اپنے چیئرمین کے پاس پہنچیں گے۔ حکومت نے کنٹینر لگائے ہم نے کرینیں منگوا لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھ کو چاقو، پستول نہ رکھیں، آپ انتظار کریں میں راستہ کھلوانے جارہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بدمعاش لوگ عوام کا راستہ روکتے ہیں۔ حکومت نے جرات کیسے کی کہ خیبر پختون خوا کو پاکستان سے جدا کریں۔